Dr. Asad Ullah Yousafzai

Dr. Asad Ullah Yousafzai Doctor

سپریم کورٹ نے SHO کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیادرخواستوں میں بخدمت جناب SHO  لکھنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے، نو...
31/01/2026

سپریم کورٹ نے SHO کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا
درخواستوں میں بخدمت جناب SHO لکھنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے، نو آبادیاتی سوچ کو مسترد کیا جاتا ہے، SHO عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، اب ایس ایچ او کو صرف جناب SHO لکھا جائے گا، غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے، فیصلہ

University of Bologna Scholarship 2026 in Italy (Application Process)University: University of BolognaLevel of Study: Un...
27/01/2026

University of Bologna Scholarship 2026 in Italy (Application Process)
University: University of Bologna
Level of Study: Undergraduate, Master’s
Study Country: Italy
Courses Offered: First, Single, and Second Cycle Degree Programs
Scholarship Coverage: Funded / Tuition reduction / Financial support
Application Deadline: Varies by scholarship

یہ ایک نہایت سنجیدہ اور حساس موضوع ہے، اور اس پر بات کرنا آج کے وقت کی بڑی ضرورت بن چکا ہے۔ایم ڈی کیٹ کلئیر نہ ہونا ناکا...
02/01/2026

یہ ایک نہایت سنجیدہ اور حساس موضوع ہے، اور اس پر بات کرنا آج کے وقت کی بڑی ضرورت بن چکا ہے۔
ایم ڈی کیٹ کلئیر نہ ہونا ناکامی نہیں، مگر نوجوان اسے کیوں اذیت بنا لیتے ہیں؟
ہمارے معاشرے میں ایم ڈی کیٹ صرف ایک امتحان نہیں رہا، بلکہ اسے زندگی اور موت کا سوال بنا دیا گیا ہے۔ جیسے ہی رزلٹ آتا ہے، کچھ گھروں میں خوشی کے دیے جلتے ہیں اور کچھ گھروں میں خاموشی، شرمندگی اور آنسوؤں کا راج ہو جاتا ہے۔ ایک ہی امتحان، مگر اثرات اتنے مختلف کہ بعض نوجوان خود کو مکمل ناکام، بےکار اور بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔
ایم ڈی کیٹ کلئیر نہ ہونا کسی کی ذہانت، صلاحیت یا مستقبل کی مکمل تصویر نہیں ہوتا، لیکن ہمارے سماجی رویے اسے ایسا بنا دیتے ہیں۔ والدین، رشتہ دار، اساتذہ اور معاشرہ مل کر ایک نوجوان کے ذہن میں یہ خیال بٹھا دیتے ہیں کہ اگر وہ ڈاکٹر نہیں بن سکا تو اس کی زندگی ختم ہو گئی۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ ذہنی اذیت، ڈپریشن اور خود اعتمادی کی تباہی میں بدل جاتی ہے۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایک امتحان چند گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ زندگی برسوں پر پھیلی ہوتی ہے۔ ایک دن کا خراب پرفارمنس یہ ثابت نہیں کرتا کہ انسان ناکارہ ہے۔ مگر نوجوان جب خود کو دوسروں سے compare کرتے ہیں، جب سوشل میڈیا پر کامیاب چہروں کو دیکھتے ہیں، جب گھر میں طعنے سننے کو ملتے ہیں، تو وہ اپنی ذات پر ظلم شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ خود کو کمرے میں بند کر لیتے ہیں، کچھ کھانا چھوڑ دیتے ہیں، کچھ اپنی نیند قربان کر دیتے ہیں اور کچھ انتہائی خطرناک حد تک خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات میں گم ہو جاتے ہیں۔
ہمارا تعلیمی نظام بھی اس اذیت میں برابر کا شریک ہے۔ یہاں متبادل راستوں کی بات کم اور ایک ہی پیشے کو کامیابی کی معراج بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سائنس، ریسرچ، تعلیم، بزنس، ٹیکنالوجی، آرٹس. یہ سب الفاظ ایم ڈی کیٹ کے شور میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان کے پاس ایک ہی خواب بچتا ہے، اور جب وہ ٹوٹتا ہے تو سب کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
والدین کی نیت اکثر اچھی ہوتی ہے، مگر دباؤ غلط ہوتا ہے۔ “ہم نے تم پر اتنا خرچ کیا”، “لوگ کیا کہیں گے”، “فلاں کا بیٹا تو سلیکٹ ہو گیا”.یہ جملے کسی تیز دھار آلے سے کم نہیں ہوتے۔ نوجوان باہر سے خاموش رہتا ہے مگر اندر ہی اندر خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتا کہ اس نے کوشش کی، وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہوا۔
اصل مسئلہ ایم ڈی کیٹ نہیں، بلکہ کامیابی کی ہماری تنگ تعریف ہے۔ ہم نے کامیابی کو ایک مخصوص سیٹ میں بند کر دیا ہے، اور جو اس میں فٹ نہ ہو، اسے ناکام قرار دے دیتے ہیں۔ یہی سوچ نوجوانوں کو خود اذیت دینے پر مجبور کرتی ہے۔ وہ اپنی قدر کو ایک رزلٹ کارڈ کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں، اور جب اس پر مطلوبہ نمبر نہ ہوں تو اپنی زندگی کو بے معنی سمجھنے لگتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوانوں کو یہ سکھائیں کہ راستے ایک نہیں ہوتے۔ ناکامی آخری سٹاپ نہیں، بلکہ ایک موڑ ہوتی ہے۔ ایم ڈی کیٹ کلئیر نہ ہونا ایک حقیقت ہو سکتی ہے، مگر یہ کسی انسان کی مکمل کہانی نہیں ہو سکتی۔ ہر نوجوان کے اندر صلاحیت ہوتی ہے، بس اسے پہچاننے اور صحیح سمت دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب تک ہم امتحان کو انسان سے بڑا سمجھتے رہیں گے، نوجوان اسی طرح خود کو اذیت دیتے رہیں گے۔ اور یہ اذیت خاموش ہوتی ہے، آہستہ ہوتی ہے، مگر بہت گہری ہوتی ہے۔ ہمیں اس خاموش درد کو سننا ہوگا، ورنہ ہم صرف رزلٹ دیکھتے رہ جائیں گے اور انسان کھوتے رہیں گے۔

اسداللہ

موسمِ سرما خصوصاً پہاڑی خطوں میں انسانی جسم کے لیے ایک مکمل فزیولوجیکل چیلنج کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور سوات جیسے عل...
01/01/2026

موسمِ سرما خصوصاً پہاڑی خطوں میں انسانی جسم کے لیے ایک مکمل فزیولوجیکل چیلنج کی صورت اختیار کر لیتا ہے، اور سوات جیسے علاقے میں سردیوں کی شدت، برفباری، یخ بستہ ہوائیں اور دھوپ کی کمی اس چیلنج کو مزید گہرا کر دیتی ہیں۔ سرد موسم میں جسم اپنی اندرونی حرارت برقرار رکھنے کے لیے اضافی توانائی خرچ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں میٹابولزم، دورانِ خون اور مدافعتی نظام میں واضح تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ قوتِ مدافعت میں کمی کے باعث نزلہ، زکام، فلو، کھانسی، گلے کی سوزش، سینے کی انفیکشن، نمونیا اور سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ دمہ اور دائمی سانس کے مریضوں میں سرد ہوا علامات کو مزید شدید کر دیتی ہے۔ بچوں اور بزرگ افراد میں چونکہ مدافعتی نظام نسبتاً کمزور ہوتا ہے، اس لیے وہ اس موسم میں جلدی متاثر ہو سکتے ہیں اور معمولی انفیکشن بھی سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ سردی کے اثر سے خون کی نالیاں سکڑنے لگتی ہیں، جس کی وجہ سے بلڈ پریشر میں اضافہ اور دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے، اور یہی کیفیت دل کے مریضوں میں سینے کے درد، سانس کی قلت اور بعض اوقات ہنگامی قلبی مسائل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

سردیوں میں جسم میں پیاس کا احساس کم ہو جانا ایک عام مگر نظرانداز کیا جانے والا مسئلہ ہے، جس کے باعث پانی کا استعمال کم ہو جاتا ہے اور اس کمی کے نتیجے میں ڈی ہائیڈریشن، قبض، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، گردوں کی کارکردگی میں کمی اور بعض اوقات پتھری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ سرد اور خشک ہوائیں جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے جلد کی خشکی، خارش، دراڑیں، ایگزیما اور ہونٹوں کے پھٹنے کی شکایات عام ہو جاتی ہیں، جبکہ ہاتھوں اور پاؤں کی جلد سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح سرد موسم جوڑوں اور پٹھوں میں اکڑاؤ پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے گٹھیا، جوڑوں کے درد اور پٹھوں کی سختی میں اضافہ ہو جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے ان مسائل کا شکار ہوں۔

پہاڑی علاقوں میں سردیوں کے دوران دھوپ محدود ہونے کی وجہ سے وٹامن ڈی کی کمی ایک اہم طبی مسئلہ بن جاتی ہے، جو ہڈیوں کی کمزوری، پٹھوں کے درد، تھکن، مدافعتی کمزوری اور بچوں میں نشوونما کی رفتار میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ سرد موسم میں جسم کو حرارت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ کیلوریز درکار ہوتی ہیں، اسی لیے غذائی ضروریات میں بھی تبدیلی آتی ہے اور متوازن، غذائیت سے بھرپور خوراک کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پروٹین سے بھرپور غذائیں، دودھ اور دودھ سے بنی اشیا، دالیں، سبزیاں، پھل اور قدرتی چکنائیاں جسم کو توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے خلاف مزاحمت بھی بڑھاتی ہیں۔

سردیوں میں گھروں کے اندر ہیٹر، انگیٹھی، لکڑی یا گیس جلانے کے مختلف ذرائع کا استعمال معمول بن جاتا ہے، مگر بند کمروں میں مناسب ہوا کی آمد و رفت نہ ہونے کی صورت میں یہ حرارتی ذرائع خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ کاربن مونو آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس آہستہ آہستہ جسم میں داخل ہو کر سر درد، چکر، متلی، سانس کی کمی، بے ہوشی اور حتیٰ کہ جان کے ضیاع کا سبب بھی بن سکتی ہے، جس کے خطرات کو اکثر سردیوں میں نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ سرد موسم کے باعث جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور گھروں تک محدود رہنے کی عادت ذہنی صحت پر بھی اثر ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں سستی، اداسی، ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور توجہ کی کمی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، اور بعض افراد میں موسمی اداسی یا ڈپریشن کی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

موسمِ سرما اپنی فطری خوبصورتی، خاموشی اور سکون کے باوجود انسانی جسم پر گہرے اور ہمہ جہت اثرات مرتب کرتا ہے، جن کا تعلق صرف ایک عضو یا نظام سے نہیں بلکہ پورے جسم اور ذہن سے ہوتا ہے۔ سردیوں میں ہونے والی یہ فزیولوجیکل تبدیلیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ موسم کس طرح انسانی صحت کو متاثر کرتا ہے اور کیوں اس دورانیے میں جسم کے تقاضے عام دنوں سے مختلف ہو جاتے ہیں، جسے سمجھنا طبی نقطۂ نظر سے نہایت اہم ہے۔

اسداللہ

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہےپاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الز...
01/01/2026

.جب ڈاکٹر خاموش ہو جاتا ہے

پاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر بولتا کیوں نہیں، سچ سامنے کیوں نہیں لاتا، یا ہر الزام کا جواب کیوں نہیں دیتا۔ مگر کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ ڈاکٹر خاموش کیوں ہو جاتا ہے۔

شروع میں ڈاکٹر بولتا ہے۔ وہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، مریض کو وقت دیتا ہے، رشتہ داروں کو حالات بتاتا ہے، نظام کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ سیکھ لیتا ہے کہ یہاں بولنے کی قیمت بہت زیادہ ہے۔

اگر وہ سچ بولے تو ویڈیو بن جاتی ہے۔
اگر وہ تاخیر کی وجہ بتائے تو الزام آ جاتا ہے۔
اگر وہ نظام کی بات کرے تو کہا جاتا ہے بہانے بنا رہا ہے۔

یوں ایک وقت آتا ہے جب ڈاکٹر بولنا چھوڑ دیتا ہے۔

یہ خاموشی غرور کی نہیں ہوتی، یہ خوف کی ہوتی ہے۔ خوف کہ کہیں بات کو غلط نہ سمجھ لیا جائے۔ خوف کہ کہیں ہجوم نہ اکٹھا ہو جائے۔ خوف کہ کہیں ایک جملہ اس کے خلاف ثبوت نہ بن جائے۔

خاموش ڈاکٹر مریض سے کم بات کرتا ہے۔
وہ کم وضاحت دیتا ہے۔
وہ مشکل فیصلہ لینے سے پہلے کئی بار رک جاتا ہے۔

یہ سب اس لیے نہیں کہ اسے پرواہ نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے اپنی اور اپنے عملے کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے۔

مگر اس خاموشی کا نقصان ہوتا ہے۔ مریض کو پوری بات سمجھ نہیں آتی۔ اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ فاصلے بڑھتے ہیں۔ اور نظام مزید ٹوٹتا ہے۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب علاج انسانوں کے درمیان نہیں رہتا، بلکہ فائلوں اور رپورٹس تک محدود ہو جاتا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈاکٹر کی خاموشی مسئلہ نہیں، ایک علامت ہے۔ یہ علامت ہے ایک ایسے نظام کی جہاں بولنے والا غیر محفوظ ہو، اور خاموش رہنے والا محفوظ۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کھل کر بات کرے، سچ بتائے، اور بہتر فیصلے کرے، تو ہمیں اسے تحفظ دینا ہوگا۔ عزت دینی ہوگی۔ اور یہ یقین دلانا ہوگا کہ اس کی بات سنی جائے گی، اسے سزا نہیں دی جائے گی۔

یہ بات بطور ڈاکٹر نہیں، بطور شہری کہنی ضروری ہے:

خاموش ڈاکٹر خطرناک نہیں ہوتا،
مگر وہ نظام جو ڈاکٹر کو خاموش کر دے،
وہ سب کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔

صحت اعتماد سے چلتی ہے۔
اور اعتماد خاموشی میں نہیں، تحفظ میں جنم لیتا ہے۔

از قلم:
ڈاکٹر سید شکیل بادشاہ


Address

Peshawar

Telephone

+923243709502

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Asad Ullah Yousafzai posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share