14/07/2026
میں نے آج تک کبھی بھی کسی کویک کے خلاف ذاتی بنیاد پر کوئی پوسٹ نہیں کی، اور نہ ہی یہ پوسٹ کسی ایک فرد کو نشانہ بنانے کے لیے ہے۔
یہ تصویر دراصل ہمارے صوبے خیبر پختونخوا کے نظامِ صحت اور اس کے معیار پر ایک سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر ایک وزیراعلیٰ، جو ایک اعلیٰ آئینی عہدے پر فائز ہیں اور تعلیم یافتہ بھی ہیں، ایک جعلی ڈاکٹر اور ایک مستند، رجسٹرڈ ڈاکٹر میں فرق نہ کر سکیں اور ایک مبینہ جعلی ڈاکٹر کو اعزازی سرٹیفکیٹ سے نواز دیں، تو پھر عام عوام سے درست پہچان کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟
ایسے میں ہیلتھ اتھارٹیز، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور HCC کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ جب قیادت کی سطح پر ہی ایسی غفلت نظر آئے تو نچلے درجے پر نظام سے بہتر کارکردگی کی امید رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے اور عوام کا اعتماد بحال رہے۔