03/06/2026
دانتوں کی صفائی (اسکیلنگ) کبھی نہیں کروانی چاہیے؟
ہمارے معاشرے میں دانتوں کی صفائی (Scaling) کے بارے میں ایک بہت عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسکیلنگ کروانے سے دانت کمزور ہو جاتے ہیں، دانتوں میں خلا پیدا ہو جاتا ہے یا مستقل حساسیت شروع ہو جاتی ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
دنیا بھر میں دانتوں کا باقاعدہ معائنہ کروانا ایک معمول کی بات ہے۔ لوگ ہر چند ماہ بعد اپنے ڈینٹسٹ سے چیک اپ کرواتے ہیں، اور اگر دانتوں پر پلاک (Plaque) یا کیلکولس/ٹارٹر (Calculus/Tartar) جمع ہو تو اس کی صفائی کروا لی جاتی ہے تاکہ مستقبل میں بڑے مسائل سے بچا جا سکے۔
اسکیلنگ ایک محفوظ اور سائنسی طریقۂ علاج ہے جس میں الٹراسونک مشینوں کی مدد سے دانتوں پر جمع سخت میل، ٹارٹر اور بیکٹیریا کو ہٹایا جاتا ہے۔ یہ مشینیں دانت کے اوپر موجود قدرتی حفاظتی تہہ یعنی اینامل (Enamel) کو نقصان نہیں پہنچاتیں اور نہ ہی دانتوں کو کمزور کرتی ہیں۔
بعض اوقات اسکیلنگ کے بعد مریض کو ہلکی سی حساسیت محسوس ہو سکتی ہے، لیکن یہ عموماً عارضی ہوتی ہے اور چند دنوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ دراصل اسکیلنگ سے پہلے دانتوں پر جمع موٹی تہہ بعض حصوں کو ڈھانپے رکھتی ہے، اور جب وہ ہٹتی ہے تو دانت اپنی اصل حالت میں آ جاتے ہیں۔
اگر دانتوں کی صفائی نہ کروائی جائے تو یہی جمع شدہ کیلکولس مسوڑھوں کی سوزش، مسوڑھوں سے خون آنے، منہ کی بدبو، دانتوں کے ہلنے اور بالآخر دانت ضائع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ بہت سے لوگ دانتوں کی کمزوری کا الزام اسکیلنگ پر لگاتے ہیں، جبکہ حقیقت میں نقصان پہلے ہی مسوڑھوں کی بیماری کی وجہ سے ہو چکا ہوتا ہے۔
یاد رکھیں، اسکیلنگ دانتوں کو خراب نہیں کرتی بلکہ انہیں اور آپ کے مسوڑھوں کو بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔ اچھی برشنگ، فلوسنگ اور باقاعدہ ڈینٹل چیک اپ کے ساتھ ضرورت پڑنے پر اسکیلنگ کروانا صحت مند دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
اپنے دانتوں کی حفاظت کریں، غلط فہمیوں کی نہیں۔