07/06/2026
کوئٹہ کی وہ ویڈیو دیکھنے کے بعد آج قلم ساتھ نہیں دے رہا۔ 💔🥺
ایک لمحے کے لیے سوچیں...
ایک لڑکی جو ایک ایسے معاشرے میں پیدا ہوتی ہے جہاں اکثر اس کے خوابوں سے زیادہ اس کی حدود طے کی جاتی ہیں۔
وہ بچپن سے پڑھتی ہے۔
گرمیوں کی دوپہریں، سردیوں کی راتیں، امتحانوں کا دباؤ، ناکامیوں کا خوف، کامیابی کی امید...
وہ اپنی جوانی کی کتنی ہی خوشیاں قربان کرتی ہے۔
اس کے والدین اپنی خواہشات دبا کر اس کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔
وہ سالوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد ڈاکٹر بنتی ہے۔
پھر ہر صبح وہ گھر سے نکلتی ہے۔
راستوں کی مشکلات برداشت کرتی ہے۔
ٹریفک، تھکن، ذہنی دباؤ اور لمبی ڈیوٹیاں جھیلتی ہے۔
وہ اپنے آرام، اپنی نیند اور اپنی زندگی کے کئی خوبصورت لمحے دوسروں کی جان بچانے کے لیے قربان کر دیتی ہے۔
وہ ہسپتال پہنچتی ہے تاکہ کسی ماں کا بیٹا بچا سکے، کسی باپ کی سانسیں بحال کر سکے، کسی بچے کی زندگی محفوظ بنا سکے۔
مگر پھر...
ایک درندہ صفت انسان ہسپتال کے اندر داخل ہوتا ہے۔
لیڈی ڈاکٹر کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
جیسے ہی وہ دروازہ کھولتی ہے، اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتا ہے۔ 💔
ایک لمحے میں سالوں کی محنت، خواب، شناخت اور زندگی کو جلا دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اور اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ شخص ہسپتال کے اندر سے آرام سے نکل جاتا ہے۔
نہ دروازے پر مؤثر سیکیورٹی۔
نہ کوریڈور میں کوئی روکنے والا۔
نہ ڈاکٹرز کے تحفظ کا کوئی انتظام۔
کچھ بھی نہیں۔
بعد میں وہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
شاید یہ اس کے انجام کا ایک حصہ تھا۔
لیکن اصل سوال اب بھی زندہ ہے۔
جو ڈاکٹر تیزاب سے جھلس گئی، اس کا کیا؟
کیا اس کا چہرہ واپس آ جائے گا؟
کیا اس کی بینائی واپس آ جائے گی؟
کیا اس کے خواب واپس آ جائیں گے؟
کیا اس کی زندگی کے وہ سال واپس آ جائیں گے جو اس نے انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کیے تھے؟
یہ صرف ایک ڈاکٹر پر حملہ نہیں۔
یہ ہر اُس عورت پر حملہ ہے جو تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھتی ہے۔
یہ ہر اُس والدین پر حملہ ہے جو اپنی بیٹی کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ ہر اُس سفید کوٹ پر حملہ ہے جو انسانیت کی خدمت کی علامت ہے۔
اگر ہمارے ہسپتال محفوظ نہیں...
اگر ہمارے ڈاکٹر محفوظ نہیں...
اگر ہماری خواتین محفوظ نہیں...
تو پھر آخر یہ ملک کس کی حفاظت کر رہا ہے؟
JusticeForDrMahnoor #
StandWithDrMahnoor #
SayNoToAcidViolence #