Saima malik writter

Saima malik writter Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Saima malik writter, Oral Surgeon, gulshan e maymar, Karachi.

ابھی سٹوری میں ظہیر شاہ اور شانزل کا ماضی بھی ہے جس سے کہانی کی سمجھ آے گی ۔۔۔عشق کی انتہا ۔۔تحریر صائمہ ملک ۔۔۔قسط 5۔۔۔...
25/08/2022

ابھی سٹوری میں ظہیر شاہ اور شانزل کا ماضی بھی ہے جس سے کہانی کی سمجھ آے گی ۔۔۔
عشق کی انتہا ۔۔
تحریر صائمہ ملک ۔۔۔
قسط 5۔۔۔
Don't copy paste without my permission.....

حال ۔۔۔۔۔
شانزل تو کینیڈا سے کب تک واپس آے گا ؟؟؟؟
کیوں تمہیں کوئی کام ہے کیا ؟؟؟
شانزل سے گھورتے ہوئے شاہویز کو دیکھا ۔۔۔۔۔
یار ایک بات بتا تو کوئی باتکا جواب عزت سے نہیں دے سکتا ۔۔
یار ایسی کیا بات بول دی ضرور دے سکتا ہوں اگر کوئی انسان عزت دار ہو تو ۔۔۔۔
کیا مطلب میں عزت دار نہیں ہوں ۔۔۔
چل اب تو اتنا تو سمجھدار ہوگیا ہے ۔۔۔
شانزل سے ہستے ہوئے شاویز کو مقہ مارا ۔۔۔
شانزل کو ہستے دیکھ شاہویز کے دل سے بیساختہ دعا نکلی اللّه پاک میرے اس دوست کو ہمیشہ ایسے ہی مسکراتا رکھنا آمین ۔۔۔۔
اچھا سن شاہویز میں 6 ماہ کے لئے کینیڈا جا رہا ہوں تم نے پیچھے آفس کا خیال رکھنا ہے ویسے تو کوئی مثلا نہیں ہوگا اگر ہو بھی تو مجہے فون کر لینا بابا کو تنگ نہیں کرنا وہ ویسے ہی زمین کے مسلے میں لگے ہوئے ہے ۔۔۔۔

ہاں سہی تم پریشان نا ہو میں دیکھ لو گا ویسے تمہیں کب نکلنا ہے ۔۔؟؟؟؟؟؟
بس آج رات کی فلائٹ ہے دو بجے کی ۔۔۔
اچھا گڈ ہوگیا ہے چل میں ابھی نکلتا ہوں رات کو تجھے ائیرپورٹ کے لئے پک کر لو گا ۔۔۔
نہیں میں چلا جاو گا ۔۔۔۔
دیکھ شانزل میری بات سن ۔۔۔
شاہویز نے بہت سنجیدہ ہو کے شانزل کو دیکھا ۔۔۔۔
مجہے رات کو بھوک لگتی ہے آج کل اپنے پیسوں سے کچھ کھانے کو دل نہیں کرتا اس لئے تو مجہے kfc پہ کچھ کھلا دے گا اس لئے تجھے ایئر پورٹ چھوڑنے جا رہا ہوں ۔۔۔
بہت ہی تو بڑا بہت ہی بڑا تو بتمیز ہے ۔۔۔
چل میں چلتا ہوں رات میں ملتے ہے ۔۔

ماضی ۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار بیگم کے دل میں کیا چل رہا تھا وہ تو زارا بھی نہیں جانتی تھی مگر ایک غلطی اس نے یہ کر لی تھی کے پھپو ( سردار بیگم ) کے کہنے پہ یہ بات صدف سے بھی چھپای....
یہ حقیقت تھی کے جو آگ زارا کے دل میں محبّت کی لگی تھی وہ ظہیر کو پتا بھی تھی مگر وہ انجان بن رہا تھا کیوں کے اس کو پتا تھا
زارا سردار بیگم کی بھائی کی بیٹی تھی وہ کبھی بھی اس کی شادی نہیں کرواے گی جو اس کی ماں کی نفرت پہلے دن سے ان کے دل میں تھی وہ آج بھی ختم کیا کم بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
ریحان لالہ ۔۔۔
جی بیٹا کیا ہوا ؟؟؟
آپ کہیں جا رہے ہے ؟؟؟
ہاں بیٹا مجہے کچھ ماہ کے لئے دبئی جانا ہے وہاں میرا ایک دوست رہتا ہے اس کے ساتھ کچھ کاروبار کی بات چل رہی تھی بس وہ ہی فائنل کرنے جانا تھا تمہیں کوئی کام ہے یا کچھ چاہیے ???
نہیں لالہ مجہے کچھ نہیں چاہیے جس کے پاس آپ جیسا بھائی ہو کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہیں ؟؟؟؟؟
اچھا جی لالہ کو مکھن لگایا جا رہا ہے
لالہ ایک بات پوچھو ؟؟؟
ہاں جی پوچھو ریحان شاہ آرام سے صوفہ پہ ٹیک لگا کے بیٹھ گے وہ سمجھ گے تھے آج ظہیر شاہ اداس ہے جب بھی وہ اداس ہوتا اس کا دل ایسے ہی ریحان شاہ سے بات کرنے کو کرتا تھا ۔۔۔

لالہ آپ نے کبھی مجھ سے نفرت کیوں نہیں کی جیسے سب کرتے ہیں
ظہیر یہ سوال آج کیوں کرنے کا کیوں خیال آیا کیا میرے پیار میں کوئی کمی تھی یا کمی ہوگی ہے
ریحان شاہ نے بہت تڑپ اور تکلیف سے ظہیر کی طرف دیکھا جس کی لال آنکھیں گواہی دے رہی تھی کے رونا بہت مشکل سے روکا ہوا ہے ۔۔
ظہیر کو اپنے گلے سے لگا کے
بیٹا کبھی کبھی اپنوں کے سامنے بھی رونا دل کو ہلکا کردیتا ہے ۔۔
لالہ آج مجہے بابا اور امی بہت یاد آرہے ہیں ایسا لگ رہا ہے
جیسے مجھ سے پھر سب کچھ کھونے والا ہے جیسے زندگی مجھ سے پھر کوئی امتحان لینے والی ہے ۔۔
ظہیر پاگل ہو کیا ایسا کیوں سوچ رہے ہو ؟؟؟؟
میں ہوں نہ تمارا بھائی باپ میں نے کس رشتے کی کمی کا احساس تمہیں ہونے دیا ہے ۔۔
ماں جی کچھ بولا ہے کیا ؟؟؟
نہیں نہیں لالہ کسی نے کچھ نہیں بولا بس ایسے ہی دل اداس تھا ۔۔۔
چلے آپ تیاری کرے آپ کی فلائٹ کا ٹائم بھی ہونے والا ہے ۔۔
ہاں ٹھیک میں چلتا ہوں مگر ظہیر یہ بات یاد رکھنا پوری دنیا تمارے ساتھ نا ہو مگر تمارا لالہ تمارے ساتھ ہے اس لئے کبھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرنا ۔۔۔
جی لالہ ۔۔۔ریحان شاہ کو گے دو دن ہوگے تھے یہ ہی وہ وقت تھا جس کا سردار بیگم کا انتظار تھا سالوں کی لگی آگ دل میں آج ٹھنڈک دے گی ۔۔۔
فریدہ
اہ فریدہ
جی بیبی جی آی ۔۔۔
فریدہ زارا کو میرے کمرے میں بیجھنا ۔۔
جی بیبی جی ۔۔۔
پھپو آپ نے بلایا مجہے ۔۔
ہاں زارا بیٹھو ۔۔۔
تمارا فیصلہ اب بھی وہ ہی ظہیر سے شادی کرنا کا ۔۔
پھپو آپ کو سب پتا ہے نہ ۔۔۔۔
دیکھو بیٹا ایسا ہے کے میں نے بھائی اور بھابھی سے اشاروں میں بات کی تھی مگر وہ سن کے ہی آگ بگولہ ہوگے ۔۔۔
پھر پھپو اب کیا ہوگا
پھپو مجہے ظہیر نہیں ملا تو میں مر جاو گی ۔۔
ارے مرے تیرے دشمن تیری پھپو ابھی زندہ ہے
بس جیسا جیسا میں بول رہی ہوں تو ویسا ویسا کرمگر ایک بات یاد رکھنا جو میں بتا رہی ہوں صرف تیرے اور میرے درمیان رہنا ہے ۔۔
جی پھپو مگر کرنا کیا ہے ؟؟؟
ادھر قریب آ میرے ۔۔
سن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھپو یہ کیا بول رہی ہے میں یہ کیسے کر سکتی ہوں آپ کو پتا ہے اگر بابا کو پتا چل گیا وہ میرے اور ظہیر کا سر قلم کردے گے ۔۔۔۔
زارا تو سردار بیگم کا پلان سن کر پریشان ہی ہوگی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا باقی سب میں سمبھال لو گی ۔۔
اور تو سوچ لے یہ سب تو کل ہی کر سکتی ہے کیوں کے ریحان شاہ دبئی گیا ہے اور صدف بھی کل میکے جاے گی میں تجھے اپنے اکیلے ہونے کے بہانے سے روک لو گی کسی کو پتا نہیں چلے گا ۔۔۔
مگر پھپو ؟؟؟؟
اب تو اگر مگر کر لے تیرے باپ نے کہی اور شادی کر لی تو میرے پاس نہیں آنا رونا دھونا لے کر ۔۔۔
زارا کا تو دماغ ہی کام نہیں کر رہا تھا وہ کیا کرے پھپو نے الگ ہی مسلے میں ڈال دیا ۔۔۔
جاری ہے

عشق کی انتہا قسط 3 تحریر صائمہ ملک Don't copy past without my permission .....اب جو کرنا ہوگا مجہے ہی کرنا ہوگا تم لوگوں...
25/08/2022

عشق کی انتہا
قسط 3
تحریر صائمہ ملک
Don't copy past without my permission .....

اب جو کرنا ہوگا مجہے ہی کرنا ہوگا تم لوگوں پہ بھروسہ کر کے میں نے بہت بڑی غلطی کردی
مگر شاہ جی
اگر مگر اب نہیں ریحان
بہت ٹائم ہوگیا
اب نہیں
یہ بول کر شانزل نے آنکھیں بند کردی اس کا صاف مطلب تھا اب شانزل کو کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔
ریحان سر جھکا کے کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔
اور اب شانزل تھا اور اس کا ماضی کا سفر ۔۔۔۔۔..................................,...........................................

ماضی ۔۔۔۔۔
شانزل ابھی اسکول سے آیا تھا کے اس نے دیکھا آج اس کے بابا جان گھر پہ تھے جو بہت مشکل سے کبھی گھر میں ہوتے تھے زمین کے زیادہ تر معملات وہ ہی دیکھتے تھے اس لئے زیادہ تر وہ حویلی سے باہر ہوتے تھے ۔۔۔
بابا جان آج آپ گھر پہ اور اس وقت مجہے پتا ہوتا میں اسکول ہی نہیں جاتا
شانزل پیار سے اپنے بابا کے گلے لگتے ہوئے
بابا کی جان بابا نے آپکو سرپرائز دینا تھا اس لئے آپکو نہیں بتایا ۔
مگر پھر بھی بابا جا ۔
شانزل کی بات ادھوری رہ گی
جب بابا کے ساتھ ایک پیاری سی لڑکی کو دیکھا
جو بلیک سکارف پہنے سنہری رنگت والی مگر روی روی لڑکی کو دیکھا
بابا یہ ؟؟؟؟؟
جی بیٹا
ان سے ملو یہ میرے بہت عزیز کی بیٹی کومل شاہ ہے
اور کومل بیٹا یہ میرا جگر شہزادہ شانزل ہے جس کا ذکر میں نے آپ سے راستہ میں کیا تھا ۔۔
السلام علیکم کومل نے جھکی جھکی نظروں سے سلام کیا
کیا سریلی آواز تھی معصوم سی
وعلیکم السلام
شانزل جواب دے کر خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔۔
شانزل بیٹا آپ کپڑے چینج کر کے مما کو بولے کھانا لگا دے
باقی باتیں کھانے کے بعد کرتے ہے
اور اچھا ہے کومل بھی سب سے کھانے کے وقت مل لے گی
جی بابا ٹھیک ہے
اچھا بیٹا
مریم پھپو کو میرے پاس بیجھ دے ۔
جی بابا ضرور ۔۔
تھوڑی دیر بعد مریم کمرے میں آتی ہے
السلام علیکم لالہ آپ کب اے
وعلیکم السلام بیٹا بس میں ابھی ابھی آیا ۔۔
لالہ یہ بچی ؟؟؟؟
بیٹا یہ کومل ہے ابھی تم اسے بچوں کے کمرے میں لے جاو باقی باتیں انشاء اللّه رات کو کرے گے یہ فریش ہوجاے تو کھانے کے ٹیبل پہ لے آیو ۔۔
سب سے مل بھی لے گی ۔۔۔
جی لالہ جیسے آپ بولے
مریم
جی لالہ
بیٹا تماری بھابھی تھوڑا خفا ہے کسی بات کو لے کر تم کوشش کرنا کومل کو محسوس نا ہو
ریحان شاہ نے آہستہ سے مریم کو بولا کے کومل نا سن لے ۔۔۔
مریم اپنی بھابھی کی عادت کو اچھی طرح جانتی تھی پتا تھا بنا سوچے سمجھے وہ کچھ بھی بول دیتی ہے اور غضہ میں یہ بھی نہیں دیکھتی کے سامنے والا کیا سوچے گا ۔۔۔

کھانے کی میز پہ سب جمع ہوگے تو ریحان شاہ نے ہمت کی سب کو کومل سے ملوانے کی ۔۔
بیبی جی آج یہ بچی کومل شاہ ہے
ظہیر اور فرح کی بیٹی
کومل شاہ کا تعارف تھا یا کوئی دھماکہ جو ریحان شاہ نے سب پہ کردیا تھا ۔۔۔۔
ریحان شاہ یہ تم کیا بول رہے ہو ؟؟؟
بیبی جی نے سب سے پہلے یہ ہی سوال کیا جس کی امید ان سے تھی
تم سوچ بھی کیسے سکتے ہو ظہیر کی بیٹی اور اس گھر میں ؟؟؟
ریحان شاہ کی بیگم سلمیٰ نے صرف ایک نظر اپنے مجازی شوہر کو دیکھا اور کرسی پھینک کر اپنے کمرے کی طرف چلی گی ۔
سلمیٰ میری بات سنے ۔۔۔۔
ریحان شاہ سلمیٰ کیا تماری بات سنے گی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم اس گھٹیا انسان کی بیٹی کو ہمارے سامنے لے آؤ گے ۔۔
گھٹیا لفظ سن کر کومل کی جان ہی نکل گی اپنے مرحوم باپ کے لئے یہ لفظ سننا اس کے لئے موت کے برابر تھا ۔۔
بیبی جی پلز وہ اس وقت اس دنیا میں نہیں ہے ایسے الفاظ نا استعمال کرے ۔
کومل ایک یتیم بچی ہے اور سب سے بڑی بات میرے بھائی کی نشانی ہے ۔۔
بھائی کی نشانی پہ کومل اور جتنے بھی بچے تھے سب حیرت سے ریحان شاہ کو دیکھنے لگے ۔۔
کومل تو یہ سوچ رہی تھی کے ریحان شاہ اس کے ابّو کے دوست ہے مگر وہ اس کے چاچو ہے خون کا رشتہ ہے یہ اس کے لئے بھی حیران کن تھا ۔۔۔
نہیں ہے وہ تمارا بھائی ریحان ۔۔۔
بیبی جی خون کے رشتے بولنے سے ختم نہیں ہوتے کومل شاہ میرے بھائی کی نشانی اور عزت ہے میں اپنے گھر کی عزت کو روڈ پہ نہیں رکھ سکتا ۔۔۔
دنیا میں بہت یتیم خانے ہے کہی بھی جا کر اسے ڈال دو۔ ۔
نہیں بیبی جی کومل اسی گھر میں رہے گی اس گھر پہ اس کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا ہمارے بچوں کا ۔۔۔

بیبی جی نے بہت افسوس سے اپنے بیٹے کو دیکھا جو بلکل اپنے باپ کی طرح شکل صورت کے ساتھ ساتھ اپنے فیصلوں کا بھی اٹل تھا ۔۔۔
بیبی جی خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گی ۔۔۔
ریحان شاہ اپنے بچوں اور بھائی کے بچوں کی طرف دیکھا اور بولے ۔۔
بیٹا کومل شاہ آج سے اس گھر کا فرد ہے جس طرح آپ سب مل جل کر رہتے ہے آج سے کومل کو بھی ایسے ہی اپنے ساتھ رکھنا ہے
اور کومل بیٹا آپ نے کسی کی بات کو محسوس نہیں کرنا یہ وقتی غضہ ہے جو ٹھیک ہوجاے گا یہ آپ کا گھر ہے آپ آرام سے اس گھر میں رہنا انشاء اللّه میری زندگی میں آپ کو کوئی تکلیف یا حلف تلفی نہیں کر سکے گا (
ریحان شاہ کو کیا پتا تھا مستقبل میں ان کے سامنے ہی کیا کیا ہونا باقی ہے ۔۔۔

۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسنز شاہ آج اپکا دھیان کہاں ہے ؟؟؟؟
سوری سر وہ آج بس میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے تو اس لئے بس میں کوشش کرو گی اب کوئی غلطی نا ہو ۔۔۔۔
مسٹر خان نے اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھا جو مشکل سے 21 سال کی لگتی ہے مگر اس کی سرمیی آنکھوں میں دنیا کا غم بسا ہوا ہے ۔۔۔
یہ بات کبھی بھی وہ کومل کو نہیں بتا سکتے تھے کے کب وہ اس کے دل میں سما گی تھی ۔۔۔
نہیں نہیں میرا مطلب یہ نہیں ہے میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں اگر کوئی پریشانی ہے تو آپ مجھ سے شیر کر سکتی ہے مجھ پہ بھروسہ کر سکتی ہے ۔۔۔
نہیں نہیں سر کوئی پریشانی نہیں ہے بس سر میں درد ہے ۔۔۔
کومل کیا بتاتی مسٹر خان کو آج نیو ییر پہ پھر اس ظالم محبوب کی یاد ستا رہی ہے یہ دل کا بھی کیا کرے جو ظلم کرے دگا کرے اسی کے لئے تڑپتا ہے ۔۔
شاہ جی کو تو یاد بھی نہیں ہوگا کوئی کومل نام کی لڑکی ان کی زندگی میں تھی آج وہ اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ خوش حال زندگی گزار رہے ھوگے ۔۔۔
اچھا چلے آپ ایسا کرے جلدی سے یہ کام سمیٹے اور روم میںآجاے آپ سب سے ایک میٹنگ کرنی ہے ۔۔۔۔
السلام علیکم آج میٹنگ کا مقصد آپ سب کو یہ بتانا تھا کے اس ہوٹل کے پاٹنر سلمان ربانی نے اپنا حصہ بیچ دیا ہے جو اب ہمارے نیو پاٹنر ہوگے وہ انشاء اللّه وزٹ کے لئے کچھ ٹائم میں پاکستان سے اے گے اس لئے میں چاہتا ہوں انھیں سب چیزے اب ڈیٹ ملے اور ان کے ساتھ اچھا سفر رہے ہمارا کام کا ۔۔۔
کومل کا دل تو پاکستان کے نام پہ ہی دھڑک گیا ۔۔

جاری ہے

 #عشق کی انتہاہ  #قسط 2  #تحریر  #صائمہ ملک Don't copy past without my permissionشاہ انڈسٹری کی چمکتی ہوئی بلڈنگ اس بات ...
25/08/2022

#عشق کی انتہاہ
#قسط 2
#تحریر #صائمہ ملک

Don't copy past without my permission

شاہ انڈسٹری کی چمکتی ہوئی بلڈنگ اس بات کی نشانی تھی کے اس کے مالکان نے بہت محنت کی اس کی بنیاد رکھنے میں ۔۔۔۔
سر آج کی بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے Rk بلڈر کے ساتھ ۔۔۔۔۔
آج کی سب میٹنگ کینسل کردو ۔
مگر سر
مس کنول آپ کو ایک بات سمجھ نہیں آتی یا اس آفس سے دل بھر گیا ہے
سوری سر
اوکے نیکسٹ ٹائم خیال رکھے گا ابھی جاے آپ
سر شاہویز ملک اے ہوئے ہے اندر بیجھ دو ۔۔۔
ہمممم
بیجھ دو ۔۔۔
اوے تو نے مجہے پاگل سمجھا ہوا ہے رات دو بجے تک میں تیرا وہاں انتظار کرتا رہا اور تجھے اتنی فرصت نہیں کے میرا فون اٹھاتا ۔۔۔
شاہویز ملک آتے ہی نون اسٹاپ شروع ہوگیا ۔۔۔
شانزل میں تجھ سے کہ رہا ہوں ۔۔۔
ہاں میں سن رہا ہوں تیری بولتی بند ہو تو میں تجھے جواب دو نا

چل اب بھونک !!!!
کل رات میں جلدی سوگیا تھا اس لئے تجھے جواب نہیں دے سکا
واہ واہ شاہویز دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے
شانزل شاہ تو اپنے ساے سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے مگر مجھ سے نہیں میں تیری رگ رگ سے واقف ہوں ۔۔۔۔
جب تجھے سب پتا ہے تو کیوں پھر یہ سوال کرتا ہے شانزل آنکھیں بند کرتے ہوئے سیٹ سے ٹیک لگا کر

6 فٹ کا قد
گولڈن بال
سرخ سفید رنگت
نیلی آنکھیں کس چیز کی کمی ہے شانزل شاہ میں
شاید قسمت خوبصورت چہروں کی غلام نہیں ہوتی ورنہ دنیا کا ہر خوبصورت انسان قسمت کا دھنی ہوتا ۔۔۔۔
شانزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو اسے بھول کیوں نہیں جاتا ؟؟؟؟؟
عورت بےوفا بھی ہونا جب تک نکاح میں اور گھر میں ہو عزت ہوتی ہے شانزل شاہ اپنی عزت کو نہیں اچھال سکتا وہ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوئی شانزل شاہ اسے ڈھونڈ کر لاے گا

اس کی سرخ آنکھوں میں ایسی نفرت تھی ایک پل کو شاہویز کا بھی دل کیا وہ کبھی شانزل کا سامنے نہ اے جس نے ہمیشہ محبّت دیکھی ہو وہ کیسے یہ نفرت دیکھ سکے گی ۔۔۔۔۔
چلو کہیں باہر چلتے ہے اچھا سا ڈنر کرواتا ہوں تجھے
آخر شانزل اپنے خ*ل میں واپس آہی گیا ۔۔۔۔
ہاں چلو ۔۔۔۔۔۔
ڈنر سے واپسی پہ شانزل کا دل ہی نہیں کر رہا تھا گھر واپس جانے کو اس کمرے میں جانے کو جہاں اس جانے دشمن کی یادیں ہی یادیں تھی ۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے میرے ساتھ کیوں
کومل شاہ یاد رکھنا جس دن تم میرے سامنے آی دنیا کی کوئی طاقت تمیں مجھ سے نہیں بچا سکتی ایک ایک بےوفائی کا بدلہ لو گا تم سے تم نے اپنے شاہ جی کی محبّت دیکھی تھی اب تم نفرت صرف اور صرف نفرت دیکھو گی ۔۔۔ان 5 سالوں کا تمہیں ضرور حساب دینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔..................................................................................

صباء میں جا رہی ہوں تم حسنین کا خیال رکھنا میں جلدی آجاو گی ۔۔۔۔
کومل اتنی برف باری میں اس موسم میں کیسے جاو گی آج off کر لو کینیڈا کا یہ موسم یہاں کے رہنے والوں کے لئے برداشت نہیں ہوتا تم کس طرح کر لیتی ہو ۔۔۔۔
صباء کچھ نہیں ہوتا آج نیو ایر کی وجہ سے ریسٹورانٹ میں بہت رش ہوگا اور تمہیں پتا ہے مسٹر خان کا اگر اتنی اچھی سیلری دیتے ہیں تو مجہے بھی خیال رکھنا ہوتا ہے ۔۔۔

کومل تم واپس کیوں نہیں چلی جاتی ؟؟؟؟؟
تمارا بیٹا اور تم اس جیسے 10 ریسٹورانٹ کے ملک ہوگے کیوں اتنی محنت کر رہی ہو ؟؟؟؟
صباء اگر واپس ہی جانا ہوتا میں آتی ہی کیوں ؟؟؟
تمارا احساں ہے اگر اس رات تم نا ملتی تو میں پتا نہیں کہاں ہوتی کس حالت میں ہوتی ۔۔۔
چلو میں چلتی ہوں حسنین کو سمجھا دیا ہے وہ تمہیں تنگ نہیں کرے گا ۔۔۔
ارے جاو مجہے کیا حسنین تنگ کرے گا اس نیلی آنکھوں والے بلے کو تو میں تنگ کرو گی ۔۔۔۔۔۔
( شاہ جی بولتے ہیں نیلی آنکھوں والے بےوفا ہوتے ہیں ۔۔۔
تم سے یہ کس نے کہاں ؟؟؟؟
بس میری دوست بول رہی تھی ۔۔۔۔
ایسی دوستوں سے دور رہا کرو ۔۔۔جو الٹی سیدھی باتیں سکھاتی ہیں ۔۔۔
شاہ جی آپ میری بات کا جواب دے میری دوست کے پیچھے نا پڑے ۔۔۔۔
شاہ کی جان نیلی آنکھیں بےوفا ہوتی ہے یا نہیں یہ تو مجہے نہیں پتا مگر کومل کا شاہ جی مرتے دم تک وفا ہی کرے گا
شاہ جی اپنے ہونٹ کومل کے ماتھے پہ رکھ کے اپنے پیار کا ثبوت دیا ۔۔۔
کومل تو اس انداز پہ لال گلابی ہوگی ۔۔۔
کومل
جی
کومل نے کامپتے ہوئے جواب دیا ۔۔
میری آنکھوں میں دیکھو ۔۔۔
شاہ جی مجہے جانے دے پلز
نہیں
پلز ۔۔صرف ایک دفع میری آنکھوں میں دیکھ کر بولو کتنا پیار کرتی ہو ۔۔۔
شاہ جی پلز
کوئی آجاے گا مجہے جانے دے
کوئی آتا ہے تو آنے دو میں اپنی بیوی سے پیار کر رہا ہوں کوئی غیر عورت سے نہیں ۔۔۔
شاہ جی ابھی صرف نکاح ہوا ہے ۔۔۔
شاہ کی جان نکاح ہوا ہے تو تمیں چھوڑ دیتا ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
بیبی جی ۔۔۔۔
کومل نے زور سے آواز دے کر ایک دم پیچھے ہٹی ۔۔۔

کومل آج تو تم بچ گی بس کچھ دن کی دوری ہے ۔
ہاہاہا
نیلی آنکھوں والے بےوفا ۔۔۔
کومل
کومل صباء کی آواز اسے ماضی سے واپس لے آی ۔۔
کیا ہوا کس خیال میں تھی
نہیں نہیں کچھ جا رہی ہو بس
کومل نے خاموشی سے اپنی آنکھوں سے آنسوں صاف کیے اور چلی گی ۔۔۔۔
کاش کومل میں تمارے لئے کچھ کر سکتی تماری قسم مجہے کچھ بھی کرنے سے روک دیتی ہے

جاری ہے

Asslam.o alikum kese hain aap sub ..sorry bht zyada masroof hone ki.waja se noval incomplete tha ab is ko complete kr ra...
25/08/2022

Asslam.o alikum kese hain aap sub ..sorry bht zyada masroof hone ki.waja se noval incomplete tha ab is ko complete kr rahi hu is liye 1st episode se upload kr rahi ..aap sub ky comments se likhne walo ko hosla milta hy or us ka likhna ka dil chahta hy ....

عشق کی انتہا۔۔۔
تحریر صائمہ ملک ۔۔
قسط 1
Don't copy paste without my permission ...

تجھے چاہا تیری دہلیز پہ سجدہ نا کیا ۔۔۔۔۔
وہ میرا عشق تھا یہ میری خد داری ہے ۔۔۔۔۔
دو آنسوں ڈائری پہ گرے شاید یہ رونا اور رات کے اس پل کومل شاہ کی قسمت میں لکھا گیا تھا ۔۔۔
مما مما تیوں (کیوں ) رو رہی ہو آپ آج پھر گندی انتی نے آپ تو ڈانٹا ؟؟؟؟
کومل شاہ ایک دم اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے نہیں نہیں بیٹا میری آنکھوں میں کچرا چلا گیا تھا ۔۔۔
کیا کوئی حسنین شاہ کی مما کو رلا سکتا ہے ؟؟؟
مما مجہے آئس کریم کھانی ہے
بیٹا اس وقت آپ نہیں کھا سکتے کل مما اور مما کی جان دونوں کھاے گے اب آپ سو جاو صبح آپ کو اسکول بھی تو جانا ہے نا ۔۔۔
نہیں نہیں مما مجہے استول ( اسکول ) نہیں جانا ۔۔
حسنین نے اپنی نیلی آنکھوں میں آنسوں لاتے ہوئے کومل کی گردن میں بازوں ڈال دے ۔۔۔
یہ نیلی آنکھیں اس ستمگر کی یاد دلا دی ۔۔۔
چلو میری جان آنکھیں بند کرو مما آپکو پیاری سی سٹوری سناے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خان بابا
خان بابا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا نوری کیوں چلا رہی ہے صبح صبح?????? ۔۔۔
میں نہیں چلا رہی اگر شاہ جی اٹھ گئے تو وہ ضرور آپ پہ چلاے گے ۔۔۔
یہ لے کافی اور جا کے شاہ جی کو دے اے ۔۔۔
خان بابا اتنی گرمی میں کون ایسی کڑوی کافی پیتا ہے مجہے تو سچ میں شاہ جی کی کبھی سمجھ نہیں آی ۔۔۔
ارے نوری بس تو نہیں سمجھے گی شاہ جی میں نے ان کو بچپن سے پالا ہے پہلے ایسے نہیں تھے شاہ جی کافی کے نام سے بھی نفرت تھی بس کسی کی چاہ کو اپنی چاہ بنا لیا ہے انہوں نے ۔۔۔۔
کیا مطلب خان بابا ۔۔۔۔
کچھ نہی بس تو اپنے کام سے کام رکھا کر جس دن شاہ جی نے تیری یہ زبان سن لی وہ دن آخری ہوگا تیرا اس حویلی میں..

یہ تھی سادات حویلی کی صبح ۔۔
جہاں صبح کا آغاز بیبی جی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوتا تھا بیبی جی اس حویلی کی سیاہ سفید کی مالک اپنے دو بیٹوں اور ایک بیوہ بیٹی کے بچوں کے ساتھ رہتی تھی ۔۔۔۔
سب سے بڑا بیٹا ریحان شاہ جن کے دو بچے شانزل شاہ جسے سب شاہ جی کے نام سے پکارتے اور دو بیٹیاں صباء اور ردا ۔۔۔
دوسرے بیٹے کامران شاہ کی ایک بیٹی سبین ۔۔۔
اور بیوہ بیٹی جو جوانی میں بیوہ ہو کے اپنے دو بچوں ضیاء اور نوین کے ساتھ سادات حویلی آگی تھی ۔۔۔

ناشتہ کے ٹیبل پہ سب موجود تھے صرف شانزل کی کمی تھی ۔۔
خان بابا کیا ہوا شانزل نہیں اٹھا کیا ابھی تک ۔۔۔
بیبی جی اٹھ گے ہے میں ان کو کافی دے آیا ہوں ۔۔۔
اچھا !!!!!! چلو آتا ہوگا پھر ۔۔۔
ریحان بیٹا اس دفع زمین پہ تم خد چکر لگا لینا کچھ عرصے سے بہت مسلہ ہو رہے ہیں میں نہیں چاہتی اب وہاں شانزل جایا کرے تم ٹھیک سے وہاں کے معملات دیکھ سکتے ہو شانزل کا جذباتی ہونا اس کے ساتھ ساتھ ہم سب اور زمین پہ کام کرنے والوں کے لئے بھی نقصان دے ہے ۔۔۔۔۔
جی ماں جی آپ ٹھیک بول رہی ہے میں انشاء اللّه آج رات ہی نکلتا ہوں ۔۔۔
مجہے تو خد شانزل کی سمجھ نہیں آتی کب وہ اپنی زندگی دوبارہ سٹارٹ کرے گا ۔۔۔کسی کے جانے سے زندگی رک تو نہیں جاتی ۔۔۔۔
معذرت بابا جان وہ کسی نہیں تھی شانزل شاہ کی عزت تھی شانزل شاہ اپنی محبّت کو تو بھول سکتا ہے مگر اپنی عزت کو نہیں ۔۔۔
شانزل یہ کون سا طریقہ ہے اپنے باپ سے بات کرنے کا ؟؟؟؟؟؟
معذرت بیبی جی میرا وہ مقصد نہیں تھا ۔۔۔۔۔
چلو اب سب ناشتہ کرو ۔۔۔
مجہے بھوک نہیں ہے آپ لوگ کرے مجہے ضروری کام سے جانا ہے دیر ہو رہی ہے شانزل بنا کسی کو دیکھے باہر چلا گیا ۔۔۔
ریحان شاہ جب تمیں پتا ہے یہ بات اس کے لئے تکلیف ہے تو کیوں اس کا ذکر کیا جاتا ہے ۔۔۔
ماں جی وہ میرا اکلوتا بیٹا ہے میں اسے اس طرح برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔۔
جب وقت تھا تب بولے نہیں اب یاد آگیا انہیں بیٹا ( ریحان شاہ کی بیوی سلمیٰ بیگم بھی یہ بول کر ٹیبل سے اٹھ گی ۔۔۔۔
سلمیٰ یہ کون سا طریقہ ہے ؟؟؟؟؟
کیا کبھی ریحان شاہ نے اپنا کوئی فرض ادا نہیں کیا ؟؟؟
سوری ماں جی مگر میرے بیٹے کی زندگی برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔
میں نے اس وقت ہی کہاں تھا یہ فیصلہ شانزل کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں کی زندگی برباد کرے گا اور وہ ہی ہوا ۔۔۔
بھابھی آپ آرام سے ناشتہ کرے انشاء اللّه سب ٹھیک ہوگا ۔۔
مریم سے اپنے بھائی اور ماں کا اترا چہرہ نہ دیکھا گیا اسے پتا تھا جب جب سلمیٰ بھابھی یہ باتیں کرے گی صرف ان کا مقصد اپنے شوہر کو شرمندہ کرنا تھا ۔۔۔
اور یہ آج کی بات نہیں پچھلے پانچ سال سے یہ ہی ہورہا ہے ۔۔۔۔
آج سے پانچ سال پہلے یہ حویلی ہمیشہ سے رونق بھری رہی پھر پتا نہیں کس کی ایسی نظر لگی کے سکوں اس حویلی کا راستہ ہی بھول گیا ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

25/08/2022

Asslam.o alikum
Mera purani.id bnd hogi th is liye new page bnaya hy

Address

Gulshan E Maymar
Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Saima malik writter posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category