25/08/2022
ابھی سٹوری میں ظہیر شاہ اور شانزل کا ماضی بھی ہے جس سے کہانی کی سمجھ آے گی ۔۔۔
عشق کی انتہا ۔۔
تحریر صائمہ ملک ۔۔۔
قسط 5۔۔۔
Don't copy paste without my permission.....
حال ۔۔۔۔۔
شانزل تو کینیڈا سے کب تک واپس آے گا ؟؟؟؟
کیوں تمہیں کوئی کام ہے کیا ؟؟؟
شانزل سے گھورتے ہوئے شاہویز کو دیکھا ۔۔۔۔۔
یار ایک بات بتا تو کوئی باتکا جواب عزت سے نہیں دے سکتا ۔۔
یار ایسی کیا بات بول دی ضرور دے سکتا ہوں اگر کوئی انسان عزت دار ہو تو ۔۔۔۔
کیا مطلب میں عزت دار نہیں ہوں ۔۔۔
چل اب تو اتنا تو سمجھدار ہوگیا ہے ۔۔۔
شانزل سے ہستے ہوئے شاویز کو مقہ مارا ۔۔۔
شانزل کو ہستے دیکھ شاہویز کے دل سے بیساختہ دعا نکلی اللّه پاک میرے اس دوست کو ہمیشہ ایسے ہی مسکراتا رکھنا آمین ۔۔۔۔
اچھا سن شاہویز میں 6 ماہ کے لئے کینیڈا جا رہا ہوں تم نے پیچھے آفس کا خیال رکھنا ہے ویسے تو کوئی مثلا نہیں ہوگا اگر ہو بھی تو مجہے فون کر لینا بابا کو تنگ نہیں کرنا وہ ویسے ہی زمین کے مسلے میں لگے ہوئے ہے ۔۔۔۔
ہاں سہی تم پریشان نا ہو میں دیکھ لو گا ویسے تمہیں کب نکلنا ہے ۔۔؟؟؟؟؟؟
بس آج رات کی فلائٹ ہے دو بجے کی ۔۔۔
اچھا گڈ ہوگیا ہے چل میں ابھی نکلتا ہوں رات کو تجھے ائیرپورٹ کے لئے پک کر لو گا ۔۔۔
نہیں میں چلا جاو گا ۔۔۔۔
دیکھ شانزل میری بات سن ۔۔۔
شاہویز نے بہت سنجیدہ ہو کے شانزل کو دیکھا ۔۔۔۔
مجہے رات کو بھوک لگتی ہے آج کل اپنے پیسوں سے کچھ کھانے کو دل نہیں کرتا اس لئے تو مجہے kfc پہ کچھ کھلا دے گا اس لئے تجھے ایئر پورٹ چھوڑنے جا رہا ہوں ۔۔۔
بہت ہی تو بڑا بہت ہی بڑا تو بتمیز ہے ۔۔۔
چل میں چلتا ہوں رات میں ملتے ہے ۔۔
ماضی ۔۔۔۔۔۔۔۔
سردار بیگم کے دل میں کیا چل رہا تھا وہ تو زارا بھی نہیں جانتی تھی مگر ایک غلطی اس نے یہ کر لی تھی کے پھپو ( سردار بیگم ) کے کہنے پہ یہ بات صدف سے بھی چھپای....
یہ حقیقت تھی کے جو آگ زارا کے دل میں محبّت کی لگی تھی وہ ظہیر کو پتا بھی تھی مگر وہ انجان بن رہا تھا کیوں کے اس کو پتا تھا
زارا سردار بیگم کی بھائی کی بیٹی تھی وہ کبھی بھی اس کی شادی نہیں کرواے گی جو اس کی ماں کی نفرت پہلے دن سے ان کے دل میں تھی وہ آج بھی ختم کیا کم بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
ریحان لالہ ۔۔۔
جی بیٹا کیا ہوا ؟؟؟
آپ کہیں جا رہے ہے ؟؟؟
ہاں بیٹا مجہے کچھ ماہ کے لئے دبئی جانا ہے وہاں میرا ایک دوست رہتا ہے اس کے ساتھ کچھ کاروبار کی بات چل رہی تھی بس وہ ہی فائنل کرنے جانا تھا تمہیں کوئی کام ہے یا کچھ چاہیے ???
نہیں لالہ مجہے کچھ نہیں چاہیے جس کے پاس آپ جیسا بھائی ہو کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہیں ؟؟؟؟؟
اچھا جی لالہ کو مکھن لگایا جا رہا ہے
لالہ ایک بات پوچھو ؟؟؟
ہاں جی پوچھو ریحان شاہ آرام سے صوفہ پہ ٹیک لگا کے بیٹھ گے وہ سمجھ گے تھے آج ظہیر شاہ اداس ہے جب بھی وہ اداس ہوتا اس کا دل ایسے ہی ریحان شاہ سے بات کرنے کو کرتا تھا ۔۔۔
لالہ آپ نے کبھی مجھ سے نفرت کیوں نہیں کی جیسے سب کرتے ہیں
ظہیر یہ سوال آج کیوں کرنے کا کیوں خیال آیا کیا میرے پیار میں کوئی کمی تھی یا کمی ہوگی ہے
ریحان شاہ نے بہت تڑپ اور تکلیف سے ظہیر کی طرف دیکھا جس کی لال آنکھیں گواہی دے رہی تھی کے رونا بہت مشکل سے روکا ہوا ہے ۔۔
ظہیر کو اپنے گلے سے لگا کے
بیٹا کبھی کبھی اپنوں کے سامنے بھی رونا دل کو ہلکا کردیتا ہے ۔۔
لالہ آج مجہے بابا اور امی بہت یاد آرہے ہیں ایسا لگ رہا ہے
جیسے مجھ سے پھر سب کچھ کھونے والا ہے جیسے زندگی مجھ سے پھر کوئی امتحان لینے والی ہے ۔۔
ظہیر پاگل ہو کیا ایسا کیوں سوچ رہے ہو ؟؟؟؟
میں ہوں نہ تمارا بھائی باپ میں نے کس رشتے کی کمی کا احساس تمہیں ہونے دیا ہے ۔۔
ماں جی کچھ بولا ہے کیا ؟؟؟
نہیں نہیں لالہ کسی نے کچھ نہیں بولا بس ایسے ہی دل اداس تھا ۔۔۔
چلے آپ تیاری کرے آپ کی فلائٹ کا ٹائم بھی ہونے والا ہے ۔۔
ہاں ٹھیک میں چلتا ہوں مگر ظہیر یہ بات یاد رکھنا پوری دنیا تمارے ساتھ نا ہو مگر تمارا لالہ تمارے ساتھ ہے اس لئے کبھی خود کو اکیلا محسوس نہیں کرنا ۔۔۔
جی لالہ ۔۔۔ریحان شاہ کو گے دو دن ہوگے تھے یہ ہی وہ وقت تھا جس کا سردار بیگم کا انتظار تھا سالوں کی لگی آگ دل میں آج ٹھنڈک دے گی ۔۔۔
فریدہ
اہ فریدہ
جی بیبی جی آی ۔۔۔
فریدہ زارا کو میرے کمرے میں بیجھنا ۔۔
جی بیبی جی ۔۔۔
پھپو آپ نے بلایا مجہے ۔۔
ہاں زارا بیٹھو ۔۔۔
تمارا فیصلہ اب بھی وہ ہی ظہیر سے شادی کرنا کا ۔۔
پھپو آپ کو سب پتا ہے نہ ۔۔۔۔
دیکھو بیٹا ایسا ہے کے میں نے بھائی اور بھابھی سے اشاروں میں بات کی تھی مگر وہ سن کے ہی آگ بگولہ ہوگے ۔۔۔
پھر پھپو اب کیا ہوگا
پھپو مجہے ظہیر نہیں ملا تو میں مر جاو گی ۔۔
ارے مرے تیرے دشمن تیری پھپو ابھی زندہ ہے
بس جیسا جیسا میں بول رہی ہوں تو ویسا ویسا کرمگر ایک بات یاد رکھنا جو میں بتا رہی ہوں صرف تیرے اور میرے درمیان رہنا ہے ۔۔
جی پھپو مگر کرنا کیا ہے ؟؟؟
ادھر قریب آ میرے ۔۔
سن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھپو یہ کیا بول رہی ہے میں یہ کیسے کر سکتی ہوں آپ کو پتا ہے اگر بابا کو پتا چل گیا وہ میرے اور ظہیر کا سر قلم کردے گے ۔۔۔۔
زارا تو سردار بیگم کا پلان سن کر پریشان ہی ہوگی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا باقی سب میں سمبھال لو گی ۔۔
اور تو سوچ لے یہ سب تو کل ہی کر سکتی ہے کیوں کے ریحان شاہ دبئی گیا ہے اور صدف بھی کل میکے جاے گی میں تجھے اپنے اکیلے ہونے کے بہانے سے روک لو گی کسی کو پتا نہیں چلے گا ۔۔۔
مگر پھپو ؟؟؟؟
اب تو اگر مگر کر لے تیرے باپ نے کہی اور شادی کر لی تو میرے پاس نہیں آنا رونا دھونا لے کر ۔۔۔
زارا کا تو دماغ ہی کام نہیں کر رہا تھا وہ کیا کرے پھپو نے الگ ہی مسلے میں ڈال دیا ۔۔۔
جاری ہے